EN हिंदी
انشاؔ جی ہے نام انہی کا چاہو تو تم سے ملوائیں | شیح شیری
insha-ji hai nam unhi ka chaho to tum se milwaen

غزل

انشاؔ جی ہے نام انہی کا چاہو تو تم سے ملوائیں

ابن انشا

;

انشاؔ جی ہے نام انہی کا چاہو تو تم سے ملوائیں
ان کی روح دہکتا لاوا ہم تو ان کے پاس نہ جائیں

یہ جو لوگ بنوں میں پھرتے جوگی بیراگی کہلائیں
ان کے ہاتھ ادب سے چومیں ان کے آگے سیس نوائیں

نا یہ لال جٹائیں راکھیں نا یہ انگ بھبوت رمائیں
نا یہ گیرو رنگ فقیری چولا پہن پہن اترائیں

بستی سے گزریں تو سارے پنگھٹ کی الھڑ ابلائیں
ان کی پیاس بجھانے کو خود امڈ گھمڈ بادل بن جائیں

نگری نگری گھومنے والوں میں ان کی مشہور کتھائیں
ویسے بات کرو تو لاج سے ان کی آنکھیں جھک جھک جائیں

نا ان کی گدڑی میں تانبا پیسہ نا منکے مالائیں
پریم کا کاسہ درد کی بھکشا گیت غزل دو ہے کوتائیں