EN हिंदी
عنایت ہے تری بس ایک احسان اور اتنا کر | شیح شیری
inayat hai teri bas ek ehsan aur itna kar

غزل

عنایت ہے تری بس ایک احسان اور اتنا کر

شہرام سرمدی

;

عنایت ہے تری بس ایک احسان اور اتنا کر
مرے اس درد کی میعاد میں بھی کچھ اضافہ کر

گماں سے بھی زیادہ چاہئے سرسبز کشت جاں
فقط پچھلے پہر کیا ہر پہر اے آنکھ برسا کر

تو پھر اکرام کیا شے ہے جو تنہائی میں تنہا ہوں
کوئی محفل عطا کر قاعدے کی اس میں تنہا کر

نفس کی آمد و شد رک نہ جائے پیشتر اس سے
زمیں کو اور نیچا آسماں کو اور اونچا کر

بہت ممکن ہے میری باتیں بے معنی لگیں تجھ کو
انہیں مجذوب کی بڑ جان اور چپ چاپ سوچا کر