EN हिंदी
ان بلا کی آندھیوں میں اک شجر باقی رہے | شیح شیری
in bala ki aandhiyon mein ek shajar baqi rahe

غزل

ان بلا کی آندھیوں میں اک شجر باقی رہے

شفیق سلیمی

;

ان بلا کی آندھیوں میں اک شجر باقی رہے
فاختاؤں کے لئے کوئی تو گھر باقی رہے

ایک تارہ ایک دیپک ایک جگنو ہی سہی
رات کی دیوار میں کوئی تو در باقی رہے

چاند کی کشتی تہ دریا ہوئی تھی جس جگہ
کچھ نشاں باقی رہے کوئی بھنور باقی رہے

جانے والے کو کبھی بھی لوٹ کر آنا نہیں
لوٹ آنے کی بہر صورت خبر باقی رہے

سرد موسم میں اٹھا کر ہاتھ یہ مانگیں دعا
تن میں جاں باقی رہے جاں میں شرر باقی رہے

راہ میں تھک کر کہیں پر بیٹھ مت جانا شفیقؔ
گھر کی جانب واپسی کا اک سفر باقی رہے