اک زمانے سے فلک ٹھہرا ہوا لگتا ہے
کوئی جیتا ہے یہاں اور نہ کوئی مرتا ہے
آزمائش ہو تو کیا جانیے کس کا نکلے
دیکھنے میں تو وہ اپنا ہی کوئی لگتا ہے
موت ہی کی ہو پر امید کی صورت ہو کوئی
نا امیدی میں کہاں تک کوئی جی سکتا ہے
نقش پا ہیں جو بتاتے ہیں کہ گزرا ہے کوئی
کون گزرا ہے مگر کس کو پتا چلتا ہے
کوئی پوچھے تو بتانا نہیں آتا دل کو
بیٹھے بیٹھے کبھی روتا ہے کبھی ہنستا ہے
صبح کی آس نہ توڑو کہ جیو گے کیسے
ان ہواؤں میں ابھی ایک دیا جلتا ہے
قافلہ ایسا مقدر ہے کہ چلتا ہی نہیں
اور چلتا ہے تو پیچھے کی طرف چلتا ہے
رہ گئی برف فقط شہر کی بنیادوں میں
پھر بھی جو ذرہ ہے سورج کا اثر رکھتا ہے
ہجر نے ایسے مراحل سے گزارا ہے کہ اب
رات کا نام بھی آ جائے تو جی ڈرتا ہے
دیکھتے دیکھتے کیا ہو گیا شہرتؔ کہ وہ اب
دل میں رہتا ہے مگر دور بہت لگتا ہے

غزل
اک زمانے سے فلک ٹھہرا ہوا لگتا ہے
شہرت بخاری