EN हिंदी
اک عمر فسانے غم جاناں کے گڑھے ہیں | شیح شیری
ek umr fasane gham-e-jaanan ke gaDhe hain

غزل

اک عمر فسانے غم جاناں کے گڑھے ہیں

شہرت بخاری

;

اک عمر فسانے غم جاناں کے گڑھے ہیں
تارے افق شعر پہ کیا کیا نہ جڑے ہیں

صحرا میں ہے جل تھل تو سمندر میں بگولے
ہم وضع کے پابند ہیں چپ چاپ پڑے ہیں

آئے کوئی جائے ہمیں کیا کام کہ ہم لوگ
کھمبے ہیں کہ سڑکوں کے کنارے پہ گڑے ہیں

خود پر جو پڑی ہے تو دھڑکتا نہیں دل بھی
غیروں کے لئے کعبے میں جا جا کے لڑے ہیں

مہدی کوئی آئے گا بدل دے گا مقدر
کیا جانئے اس آس میں کس دن سے پڑے ہیں

ہم کچھ بھی ہوں لیکن ہیں ترے پاؤں کی مٹی
چرچے ترے کچھ بھی نہ ہوں پھر بھی تو بڑے ہیں

یہ مرتبہ حاصل ہے تری بزم کو جن سے
وہ لوگ ابھی تک پس دیوار پڑے ہیں

انگارے برستے ہیں اگر کچھ تو ہے ورنہ
اس منہ سے سدا پھول محبت کے جھڑے ہیں

موقوف کرو ہم سخنی میرؔ کی شہرتؔ
ارباب قلم پر یہ شب و روز کڑے ہیں