اک انقلاب مسلسل ہے زندگی میری
اک اضطراب مکمل ہے خامشی میری
یہ کس مقام پہ پہنچی خود آگہی میری
کہ آج آپ نے محسوس کی کمی میری
مزاج حسن کو بھائی نہ بندگی میری
نیاز عشق میں شامل رہی خودی میری
محیط کون و مکاں ہے جمال پردہ نشیں
وہ سامنے تھے جہاں تک نظر گئی میری
حدیث دل بہ زبان نظر بھی کہہ نہ سکا
حضور حسن بڑھی اور بے بسی میری
گلوں کا ذکر ہی کیا گل تو خیر گل ہی ہیں
چمن کے خار اڑاتے ہیں اب ہنسی میری
پلا پلا کے نگاہوں سے بادۂ تسکیں
بڑھا رہا ہے کوئی اور تشنگی میری
رلا رلا کے زمانے نے انتقام لیا
مجھے تو راس نہ آئی کبھی ہنسی میری
تری نگاہ نے کیا دے کے شاد کام کیا
کہ بے نیاز تمنا ہے زندگی میری
رلائے گی مری یاد ان کو مدتوں ذوقیؔ
کریں گے بزم میں محسوس جب کمی میری
غزل
اک انقلاب مسلسل ہے زندگی میری
محمد ایوب ذوقی