EN हिंदी
اک ہوا سا مرے سینے سے مرا یار گیا | شیح شیری
ek hawa sa mere sine se mera yar gaya

غزل

اک ہوا سا مرے سینے سے مرا یار گیا

فرحت احساس

;

اک ہوا سا مرے سینے سے مرا یار گیا
زندہ کرنے مجھے آیا تھا مگر مار گیا

اب تو یہ جسم بھی جاتا نظر آتا ہے مجھے
عشق اب چھوڑ مری جان کہ میں ہار گیا

اینٹ گارے کا بس ایک ڈھیر بنا بیٹھا ہوں
زیر تعمیر مجھے چھوڑ کے معمار گیا

گھر کو واپس کبھی جاتا نہیں دیکھا گیا وہ
سب نے جس شخص کو دیکھا تھا کہ بازار گیا

راستے میں کہیں نیند آ گئی ہوگی شاید
اس سفر میں تو مرا دیدۂ بے دار گیا

آج اک حسن نے بھیجے تھے سپاہی اپنے
فرحتؔ احساس محبت میں گرفتار گیا