EN हिंदी
اک بھول سی ضرور کہیں کر رہے ہیں ہم | شیح شیری
ek bhul si zarur kahin kar rahe hain hum

غزل

اک بھول سی ضرور کہیں کر رہے ہیں ہم

فرحت احساس

;

اک بھول سی ضرور کہیں کر رہے ہیں ہم
کوئی ضروری کام نہیں کر رہے ہیں ہم

چوما ہے جن لبوں ہزار ان کے خون معاف
تو جھوٹ خوب بول یقیں کر رہے ہیں ہم

باہر سے مر گئے ہیں کہ مارے نہ جا سکیں
جینے کا کام زیر زمیں کر رہے ہیں ہم