EN हिंदी
اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں | شیح شیری
ijazat de ki apni dastan-e-gham bayan kar len

غزل

اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں

سیماب اکبرآبادی

;

اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیں
ترے احساس اور اپنی زباں کا امتحاں کر لیں

حیات جاوداں بھی عشق میں برباد کر لیں گے
متاع ہستی فانی تو پہلے رائیگاں کر لیں

یہ سازش کر رہے ہیں چند تنکے آشیانے کے
کہ بجلی کو کسی صورت اسیر آشیاں کر لیں

شب غم اے تصور ان کو مجبور تبسم کر
مرتب اس اجالے میں ہم اپنی داستاں کر لیں

ٹھکانا ہو کہاں سیمابؔ پھر ناز آفرینی کا
اگر ہم اپنے دل کو بے نیاز دو جہاں کر لیں