عید کا دن ہوا کرتی تھی ہر اک رات مجھے
ہائے وہ وقت کہ راس آتی تھی برسات مجھے
کچھ بھی ہو توبہ محبت سے نہ ہوگی واعظ
جان و دل دونوں سے پیاری ہے مری بات مجھے
جگمگاتی تری آنکھوں کی قسم فرقت میں
بڑے دکھ دیتی ہے یہ تاروں بھری رات مجھے
دل نے ان کو بھی کیا چشم مروت کے سپرد
آپ سے تھے بھی جو کچھ شکوہ شکایات مجھے
دکھ بھرا ہوں مرے نالوں سے حذر کر ناصح
بری معلوم نہ ہو جائے کوئی بات مجھے
جتنے دن زیست کے باقی ہیں نچھاور کر دوں
پھر جو مل جائے جوانی کی کوئی رات مجھے
ابر باراں کے مزے لوٹوں میں کیونکر منظرؔ
دم بھی لینے دے مری آنکھوں کی برسات مجھے
غزل
عید کا دن ہوا کرتی تھی ہر اک رات مجھے
منظر لکھنوی

