EN हिंदी
ادھر سے جھانکتے ہیں گہہ ادھر سے دیکھ لیتے ہیں | شیح شیری
idhar se jhankte hain gah udhar se dekh lete hain

غزل

ادھر سے جھانکتے ہیں گہہ ادھر سے دیکھ لیتے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

;

ادھر سے جھانکتے ہیں گہہ ادھر سے دیکھ لیتے ہیں
غرض ہم اس کی صورت سو ہنر سے دیکھ لیتے ہیں

کیا ہے بخت نے جس دن سے ہم کو اس کا ہم سایہ
ہم اس رشک پری کو اپنے گھر سے دیکھ لیتے ہیں

جو ہو جاتے ہیں دیوانے ترے اتنے نقابوں پر
خدا جانے کہ وہ تجھ کو کدھر سے دیکھ لیتے ہیں

ہمیں گریہ سے وہ فرصت کہاں جو خال و خط دیکھیں
مگر نقشہ ترا اس چشم تر سے دیکھ لیتے ہیں

ہمارے دیکھنے سے کیوں خفا ہوتا ہے اے ظالم
ترا لیتے ہیں کیا ٹک اک نظر سے دیکھ لیتے ہیں

ہمیں اس کو میں رہنے کا نہیں کچھ اور تو حاصل
پر اتنا ہے کہ گاہے چاک در سے دیکھ لیتے ہیں

لگیں ہیں دیکھنے جب مصحفیؔ ہم اس کے کوچے میں
ٹک اک پھر کر بھی رسوائی کے ڈر سے دیکھ لیتے ہیں