EN हिंदी
حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے | شیح شیری
husn ke dil mein jagah pate hi diwana bane

غزل

حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے

سیماب اکبرآبادی

;

حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
ہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنے

کہہ دیا ہے کہ ملو ہم سے تو یکسو ہو کر
اب نبھے یا نہ نبھے ان سے بنے یا نہ بنے

آج وہ بزم میں خود شمع بنے بیٹھے ہیں
ہے کوئی مدعیٔ سوز جو پروانہ بنے

دل آزردہ ہے لبریز حدیث غم عشق
میں اگر چاہوں تو ہر سانس اک افسانہ بنے

کتنے دیوانے محبت میں مٹے ہیں سیمابؔ
جمع کی جائے جو خاک ان کی تو ویرانہ بنے