حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
ہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنے
کہہ دیا ہے کہ ملو ہم سے تو یکسو ہو کر
اب نبھے یا نہ نبھے ان سے بنے یا نہ بنے
آج وہ بزم میں خود شمع بنے بیٹھے ہیں
ہے کوئی مدعیٔ سوز جو پروانہ بنے
دل آزردہ ہے لبریز حدیث غم عشق
میں اگر چاہوں تو ہر سانس اک افسانہ بنے
کتنے دیوانے محبت میں مٹے ہیں سیمابؔ
جمع کی جائے جو خاک ان کی تو ویرانہ بنے

غزل
حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنے
سیماب اکبرآبادی