ہنر جو طالب زر ہو ہنر نہیں رہتا
محل سرا میں کوئی کوزہ گر نہیں رہتا
بچھڑتے وقت کسی سے ہمیں بھی تھا یہ گماں
کہ زخم کیسا بھی ہو عمر بھر نہیں رہتا
میں اپنے حق کے سوا مانگتا اگر کچھ اور
تو میرے حرف دعا میں اثر نہیں رہتا
کچھ اور بھی گزر اوقات کے وسیلے ہیں
گدا خزینۂ کشکول پر نہیں رہتا
وہ کون ہے جو مسافر کے ساتھ چلتا ہے
خیال یار بھی جب ہم سفر نہیں رہتا
جسے بناتے سجاتے ہیں جس میں رہتے ہیں
سویرے آنکھ کھلے تو وہ گھر نہیں رہتا
کھلی فضا نہ رہے یاد اگر پرندوں کو
غم شکستگی بال و پر نہیں رہتا
ہم ایک شب میں کئی خواب دیکھتے ہیں سو اب
وہ آ کے خواب میں بھی رات بھر نہیں رہتا
کمالؔ لوگ بھی کیا ہیں گماں یہ رکھتے ہیں
جو بس گیا ہو کہیں در بدر نہیں رہتا
غزل
ہنر جو طالب زر ہو ہنر نہیں رہتا
حسن اکبر کمال

