EN हिंदी
ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھے | شیح شیری
hui humse ye nadani teri mahfil mein aa baiThe

غزل

ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھے

شکیل بدایونی

;

ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھے
زمیں کی خاک ہو کر آسمان سے دل لگا بیٹھے

ہوا خون تمنا اس کا شکوہ کیا کریں تم سے
نہ کچھ سوچا نہ کچھ سمجھا جگر پر تیر کھا بیٹھے

خبر کی تھی گلستان محبت میں بھی خطرے ہیں
جہاں گرتی ہے بجلی ہم اسی ڈالی پہ جا بیٹھے

نہ کیوں انجام الفت دیکھ کر آنسو نکل آئیں
جہاں کو لوٹنے والے خود اپنا گھر لٹا بیٹھے