ہو خدا کا کرم ارادوں پر
جی رہے ہیں کسی کے وعدوں پر
زندگی کو بنا دیا ہے چمن
پھول برسیں تمہاری یادوں پر
اصلیت کیا ہے یہ خدا جانے
زندہ اب تک ہیں اعتقادوں پر
پاس آ کر گریز کرتے ہو
ظلم ہے یہ مری مرادوں پر
چھن گئے تخت بادشاہوں کے
تنگ دنیا ہے شاہ زادوں پر
مل کے سب امن و چین سے رہئے
لعنتیں بھیجئے فسادوں پر
اے فلکؔ ناز ہے فقیری میں
مجھ کو بوسیدہ ان لبادوں پر

غزل
ہو خدا کا کرم ارادوں پر
ہیرا لال فلک دہلوی