EN हिंदी
ہو چکا انتظار سونے دے | شیح شیری
ho chuka intizar sone de

غزل

ہو چکا انتظار سونے دے

قتیل شفائی

;

ہو چکا انتظار سونے دے
اے دل بے قرار سونے دے

مٹ گئیں رونقیں چراغوں کی
لٹ گئے رہ گزار سونے دے

آہٹوں کے فریب میں مت آ
ان کا کیا اعتبار سونے دے

پی لئے آنسوؤں کے جام بہت
ٹوٹتا ہے خمار سونے دے

تو نے دیکھی تو ہوگی شام خزاں
اے مریض بہار سونے دے

اونگھتا ہے اداس پیڑوں پر
چاندنی کا غبار سونے دے

آخر شب نہ کوئی آئے گا
میرے شب زندہ دار سونے دے

دور اس پار دیکھتا کیا ہے
واقف خوئے یار سونے دے

بن گئے ہیں ہمارے سینے میں
حسرتوں کے مزار سونے دے