EN हिंदी
ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں | شیح شیری
hawas ka rang ziyaada nahin tamanna mein

غزل

ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں

رئیس فروغ

;

ہوس کا رنگ زیادہ نہیں تمنا میں
ابھی یہ موج ہے بیگانگی کے صحرا میں

سمندروں میں ستاروں کی آگ پھیلی ہے
مہک رہا ہے لہو لذت نظارہ میں

ہوا نے ابر بہاراں سے بے وفائی کی
خبر کرو کسی آرام گاہ تنہا میں

دلوں کے بند دریچوں سے جھانک کر دیکھو
کسی فساد کی پرچھائیاں ہیں دنیا میں

فریب تھا جو مجھے زعم بے کرانی تھا
اداس ہیں مرے ساحل فراق دریا میں

مجھے تو ایک ترا حسن ہی بہت ہے مگر
ترے لیے بھی بہت کچھ ہے خواب فردا میں