EN हिंदी
ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے | شیح شیری
hawa mein jo ye ek namnaki hai

غزل

ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے

رفیق راز

;

ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے
صدا تیز رفتار دریا کی ہے

قدم روک مت پیچھے مڑ کے نہ دیکھ
یہ آواز کم بخت دنیا کی ہے

مکاں تو مرا لا مکاں ہو گیا
شکایت مگر تنگئ جا کی ہے

بھڑکتا ہے شعلہ سا رنگ سکوت
قلندر کے لہجے میں بیباکی ہے

پڑا رہ بدن کے دریچے نہ کھول
مری انگلیوں میں ہوس ناکی ہے

شجر سے لپٹ کر نہ روئے گی یہ
ہوا جو چلی ہے وہ صحرا کی ہے

مرے شیشۂ لا زماں پر ابھی
بہت گرد امروز و فردا کی ہے

چمک آنکھ میں حیرتوں کی نہیں
بس اک دھوپ تاب تماشا کی ہے