EN हिंदी
ہوا کا شور صدائے سحاب میرے لئے | شیح شیری
hawa ka shor sada-e-sahab mere liye

غزل

ہوا کا شور صدائے سحاب میرے لئے

جعفر شیرازی

;

ہوا کا شور صدائے سحاب میرے لئے
جہان جبر کا ہر اضطراب میرے لیے

سلگتا جاتا ہوں میں اور پڑھتا جاتا ہوں
کھلا پڑا ہے زمانے کا باب میرے لیے

میں منتظر تھا جہاں پر گلاب کھلنے کا
وہیں پریشاں تھی بوئے گلاب میرے لیے

یہ میری عمر کی شب یہ اڑی ہوئی نیندیں
نہ کوئی خواب نہ افسون خواب میرے لیے

تباہ کر دیا عہد جواں کی باتوں نے
شباب اس کے لئے تھا شراب میرے لیے

جہاں ہے نشۂ خواب سحر میں کھویا ہوا
ہے سر پہ آیا ہوا آفتاب میرے لئے

رہا ہے دھیان میں اک جسم چاند سا جعفرؔ
ہوئی وہاں ہے شب ماہتاب میرے لئے