EN हिंदी
حوصلوں سے بکھر بھی جاتا ہوں | شیح شیری
hauslon se bikhar bhi jata hun

غزل

حوصلوں سے بکھر بھی جاتا ہوں

جاوید ناصر

;

حوصلوں سے بکھر بھی جاتا ہوں
میں مثالوں سے ڈر بھی جاتا ہوں

زندگی کا سفر بھی جاری ہے
شام ہوتے ہی گھر بھی جاتا ہوں

غور سے دیکھتا ہوں دنیا کو
راستوں سے گزر بھی جاتا ہوں

ہاں جہاں پر سوال اگتے ہیں
حسب عادت ادھر بھی جاتا ہوں

جھوٹ کے سچ کے درمیان کبھی
میں تکلف سے مر بھی جاتا ہوں