EN हिंदी
ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہے | شیح شیری
har uqda-e-tadir-e-jahan khol rahi hai

غزل

ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہے

فراق گورکھپوری

;

ہر عقدۂ تقدیر جہاں کھول رہی ہے
ہاں دھیان سے سننا یہ صدی بول رہی ہے

انگڑائیاں لیتی ہے تمنا تری دل میں
شیشے میں پری ناز کے پر تول رہی ہے

رہ رہ کے کھنک جاتی ہے ساقی یہ شب ماہ
اک جام پلا خنکئ شب بول رہی ہے

دل تنگ ہے شب کو کفن نور پہنا کے
وہ صبح جو غنچوں کی گرہ کھول رہی ہے

اک آگ لگا دیتی ہے دیوانوں کے دل میں
غنچوں کی رگوں میں جو تری ڈول رہی ہے

چھلکاتی ہے جو آنکھ نگاہوں سے گلابی
اس پردے میں وہ زہر بھی کچھ گھول رہی ہے

شبنم کی دمک ہے وہ شب ماہ کی دیوی
موتی سر گلزار جہاں رول رہی ہے

رکھتی ہے مشیت حد پرواز جہاں بھی
انسان کی ہمت وہیں پر تول رہی ہے

پہلو میں شب تار کے ہے کون سی دنیا
جس کے لئے آغوش سحر کھول رہی ہے

ہر آن وہ رگ رگ میں چٹکتی ہوئی کلیاں
اس شوخ ہے پیمانۂ مے بول رہی ہے

خوش ہے دل غمگیں بھی غنیمت ہے یہ وقفہ
اس کی نگہ ناز بھی ہنس بول رہی ہے

گو حسن کی قیمت ہے ازل ہی سے دو عالم
وہ جنس محبت ہے جو انمول رہی ہے

پھر از سر نو چونکتی جاتی ہیں نگاہیں
خاموشی ہیں افلاک زمیں بول رہی ہے

اک کشف کرامات کا عالم ہے گلستاں
یا باد صبا راز جہاں کھول رہی ہے

چھڑتے ہی غزل بڑھتے چلے رات کے سائے
آواز مری گیسوئے شب کھول رہی ہے

آتا ہے فراقؔ آج ادھر بہر زیارت
بت خانے کی خاموش فضا بول رہی ہے