EN हिंदी
ہر طرف تذکرۂ جرم و سزا ہوتا ہے | شیح شیری
har taraf tazkira-e-jurm-o-saza hota hai

غزل

ہر طرف تذکرۂ جرم و سزا ہوتا ہے

کرار نوری

;

ہر طرف تذکرۂ جرم و سزا ہوتا ہے
آج ہم سمجھے کہ بندہ بھی خدا ہوتا ہے

جیسے رہتے ہوں کسی شخص کی جاگیر میں ہم
دل میں رہ رہ کے یہ احساس سا کیا ہوتا ہے

ہم نشیں غور نہ کر بات کو محسوس تو کر
اس چھٹی حس میں کوئی خطرہ چھپا ہوتا ہے

اپنے احساس میں اے واعظ تسلیم و رضا
رند پیمانہ بکف ہو تو خدا ہوتا ہے

کتنا پیارا ہے وہ نوریؔ مرا وقتی دشمن
میری بے راہروی پر جو خفا ہوتا ہے