ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا
کون دریا کو الٹتا کون گوہر دیکھتا
وہ تو دنیا کو مری دیوانگی خوش آ گئی
تیرے ہاتھوں میں وگرنہ پہلا پتھر دیکھتا
آنکھ میں آنسو جڑے تھے پر صدا تجھ کو نہ دی
اس توقع پر کہ شاید تو پلٹ کر دیکھتا
میری قسمت کی لکیریں میرے ہاتھوں میں نہ تھیں
تیرے ماتھے پر کوئی میرا مقدر دیکھتا
زندگی پھیلی ہوئی تھی شام ہجراں کی طرح
کس کو اتنا حوصلہ تھا کون جی کر دیکھتا
ڈوبنے والا تھا اور ساحل پہ چہروں کا ہجوم
پل کی مہلت تھی میں کس کو آنکھ بھر کر دیکھتا
تو بھی دل کو ایک خوں کی بوند سمجھا ہے فرازؔ
آنکھ اگر ہوتی تو قطرے میں سمندر دیکھتا
غزل
ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتا
احمد فراز

