EN हिंदी
ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے | شیح شیری
har lamha dil-doz KHamoshi chiKH rahi hai

غزل

ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے

جمال اویسی

;

ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے
میں ہوں جہاں تنہائی میری چیخ رہی ہے

گھر کے سب دروازے کیوں دیوار ہوئے ہیں
گھر سے باہر دنیا ساری چیخ رہی ہے

خالی آنکھیں سلگ رہی ہیں خشک ہیں آنسو
اندر اندر دل کی اداسی چیخ رہی ہے

طوفانوں نے سارے خیمے توڑ دئیے ہیں
یوں لگتا ہے ساری خدائی چیخ رہی ہے

رات کی چیخوں سے آباد ہوا ہر خطہ
کب سے نوید صبح بچاری چیخ رہی ہے

کاروبار نہ کرنا لوگو دیکھو دل ہے
اک مدت سے روح ہماری چیخ رہی ہے