ہر اک جانب ان آنکھوں کا اشارہ جا رہا ہے
ہمیں کن امتحانوں سے گزارا جا رہا ہے
کنارے کو بچاؤں تو ندی جاتی ہے مجھ سے
ندی کو تھامتا ہوں تو کنارا جا رہا ہے
میں ڈوبا جا رہا ہوں ان صداؤں کے بھنور میں
مجھے اب چاروں جانب سے پکارا جا رہا ہے
تعاقب مت کرو اس کے بدن کی روشنی کا
کہ یہ تو صرف اس کا استعارہ جا رہا ہے
یہ سارا کھیل فتح شاہ کا ہے جس کی خاطر
پیادوں جیسے انسانوں کو ہارا جا رہا ہے
اب اس رخسار کا تل ہے علامت اس بھنور کی
جہاں سارا سمرقند و بخارا جا رہا ہے
مرے اشعار ہیں وہ آسمانی خواب جن کو
مری مٹی کے ہونٹھوں پر اتارا جا رہا ہے
وہیں چشم و لب و رخسار بھی جاتے ہیں اس کے
جہاں یہ حسن کا سارا ادارہ جا رہا ہے
میں ساحل ہو گیا ہوں جب سے وہ دریا ہوا ہے
نظر ٹھہری ہوئی ہے اور نظارا جا رہا ہے
تو کیا یہ وصل کی شب ہے کہ جب گھر سے بچھڑ کے
نہ جانے کس کے گھر میرا ستارا جا رہا ہے
علمبردار تنہائی تھا اپنا فرحتؔ احساس
ہجوم شہر کے ہاتھوں جو مارا جا رہا ہے
غزل
ہر اک جانب ان آنکھوں کا اشارہ جا رہا ہے
فرحت احساس

