EN हिंदी
ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم | شیح شیری
har gosha-e-nazar mein samae hue ho tum

غزل

ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم

شکیل بدایونی

;

ہر گوشۂ نظر میں سمائے ہوئے ہو تم
جیسے کہ مرے سامنے آئے ہوئے ہو تم

میری نگاہ شوق پہ چھائے ہوئے ہو تم
جلووں کو خود حجاب بنائے ہوئے ہو تم

کیوں اک طرف نگاہ جمائے ہوئے ہو تم
کیا راز ہے جو مجھ سے چھپائے ہوئے ہو تم

دل نے تمہارے حسن کو بخشی ہیں رفعتیں
دل کو مگر نظر سے گرائے ہوئے ہو تم

یہ جو نیاز عشق کا احساس ہے تمہیں
شاید کسی کے ناز اٹھائے ہوئے ہو تم

یا مہربانیوں کے ہی قابل نہیں ہوں میں
یا واقعی کسی کے سکھائے ہوئے ہو تم

اب امتیاز پردہ و جلوہ نہیں مجھے
چہرے سے کیوں نقاب اٹھائے ہوئے ہو تم

اف رے ستم شکیلؔ یہ حالت تو ہو گئی
اب بھی کرم کی آس لگائے ہوئے ہو تم