EN हिंदी
ہر ایک سانس ہی ہم پر حرام ہو گئی ہے | شیح شیری
har ek sans hi hum par haram ho gai hai

غزل

ہر ایک سانس ہی ہم پر حرام ہو گئی ہے

راجیش ریڈی

;

ہر ایک سانس ہی ہم پر حرام ہو گئی ہے
یہ زندگی تو کوئی انتقام ہو گئی ہے

جب آئی موت تو راحت کی سانس لی ہم نے
کہ سانس لینے کی زحمت تمام ہو گئی ہے

کسی سے گفتگو کرنے کو جی نہیں کرتا
مری خموشی ہی میرا کلام ہو گئی ہے

پرندے ہوتے تو ڈالی پہ لوٹ بھی جاتے
ہمیں نہ یاد دلاؤ کہ شام ہو گئی ہے

ادھر تو روز کے مرنے سے ہی نہیں فرصت
ادھر وہ زندگی فرصت کا کام ہو گئی ہے

ہزاروں آنسوؤں کے بعد اک ذرا سی ہنسی
کسی غریب کی محنت کا دام ہو گئی ہے

بنا نہ پائی کبھی عادتوں کو اپنا غلام
یہ زندگی تو خود ان کی غلام ہو گئی ہے

پرانی یادوں نے جب بھی لگا لیا پھیرا
اس اجڑے دل میں بڑی دھوم دھام ہو گئی ہے