EN हिंदी
ہر چند امردوں میں ہے اک راہ کا مزا | شیح شیری
har chand amradon mein hai ek rah ka maza

غزل

ہر چند امردوں میں ہے اک راہ کا مزا

مصحفی غلام ہمدانی

;

ہر چند امردوں میں ہے اک راہ کا مزا
غیر از نسا ولے نہ ملا چاہ کا مزا

خطرے سے اس کے کر نہیں سکتا میں آہ بھی
لیتا ہوں جی ہی جی میں سدا آہ کا مزا

اپنی تو عمر روز سیہ میں گزر گئی
دیکھا کبھی نہ ہم نے شب ماہ کا مزا

باللہ کہہ کے اس نے قسم کھائی تھی کہیں
واللہ بھولتا نہیں باللہ کا مزا

بوسے کے جو سوال پہ اس نے کہا تھا واہ
اب تک پھرے ہے دل میں وہی واہ کا مزا

لذت کو اس کے سمجھیں ہیں کیا صاحب ورع
کوئی پوچھے اہل فسق سے تو باہ کا مزا

کیا وہ بھی دن تھے خوب کہ لوٹیں تھے مصحفیؔ
ہم بھی نظارۂ گہہ و بے گاہ کا مزا