ساز کو پڑتا ہے میرے کیوں تیرا مضراب کم
کیوں کہانی میں میری لگتا ہے کوئی باب کم
چوٹیوں پر ڈھونڈنے سے ہی نظر آتی ہے برف
آگ ہے اس شہر میں بسیار اور برفاب کم
میرے آنگن سے چرائی کس نے سورج کی کرن
میرے چھت پر کیوں بچھی ہے چادر مہتاب کم
موت کے سائے نظر آتے ہیں ایک اک موڑ پر
زندہ رہنے کے میسر ہیں یہاں اسباب کم
غزل
ساز کو پڑتا ہے میرے کیوں تیرا مضراب کم
ہمدم کاشمیری

