EN हिंदी
ہماری طرح حروف جنوں کے جال میں آ | شیح شیری
hamari tarah huruf-e-junun ke jal mein aa

غزل

ہماری طرح حروف جنوں کے جال میں آ

رفیق راز

;

ہماری طرح حروف جنوں کے جال میں آ
کبھی تو جلوہ گہہ نون جیم دال میں آ

ابھی تو گرد زمانے کی اڑ رہی ہے یہاں
ابھی نہ مثل صبا کوچۂ خیال میں آ

گزر نہ جائے کہیں خامشی میں یہ شب بھی
مراقبہ تو ہوا اب ذرا جلال میں آ

تجھے بھی آج کوئی روپ بخشتا ہی چلوں
تو سنگ ہے تو مرے دست با کمال میں آ

یہاں زوال کا منظر بھی لا زوال نہیں
یقیں نہیں تو بیابان ماہ و سال میں آ