ہم نے اشکوں سے ترا نام لکھا پانی پر
یوں جلایا ہے سر شام دیا پانی پر
بھیگی پلکوں پہ ابھرتے گئے یادوں کے نقوش
دیکھتے دیکھتے اک شہر بسا پانی پر
موسم نو کی خبر خشک زمینوں کے لیے
تیرتا آتا ہے پتا جو ہرا پانی پر
منحصر چار عناصر پہ ہے انساں کا وجود
نقش مٹی کا بنا آگ ہوا پانی پر
کسی زردار کے آگے نہ پسارا دامن
ایک خوددار کئی روز جیا پانی پر
کون گزرا ہے الجھتا ہوا موجوں سے شبینؔ
دور تک کس کے ہیں نقش کف پا پانی پر

غزل
ہم نے اشکوں سے ترا نام لکھا پانی پر
شبانہ زیدی شبین