ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے
یعنی زندگانی کو معتبر بنایا ہے
ہر غم زمانہ کو دل میں دی جگہ ہم نے
خوب جو ملا اس کو خوب تر بنایا ہے
اینٹ اور پتھر کا گھر نہیں ملا تو کیا
دشمنوں کے دل میں بھی ہم نے گھر بنایا ہے
احتیاط سیکھی ہے بے اصول لوگوں سے
ہم کو چند اندھوں نے دیدہ ور بنایا ہے
زیست کے گھروندے کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے
عمر بھر بگاڑا ہے عمر بھر بنایا ہے
غزل
ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے
بدر جمالی