ہم کو برائے دنیا بے جان کر دیا ہے
کیا عشق تو نے جینا آسان کر دیا ہے
پھر ہم نے راستے کا کوئی اصول توڑا
پھر وقت نے ہمارا چالان کر دیا ہے
سینہ پھلا کے ایسے مسجد سے آ رہے ہیں
اللہ میاں پہ جیسے احسان کر دیا ہے
مٹی کو اپنی مٹی پانی کو اپنا پانی
سرمایہ آب و گل کا سب دان کر دیا ہے
تو نے ہمارے فانی ہونے کی لاج رکھ لی
آب حیات مٹی میں سان کر دیا ہے
ساحل کی بستیوں کا سارا گھمنڈ ٹوٹا
سیلاب نے طمانچہ جب تان کر دیا ہے
سوکھے لبوں پہ اس نے ٹپکایا آب بوسہ
اور وہ بھی اپنے ہونٹھوں سے چھان کر دیا ہے
تم سوچ میں پڑے ہو تو سوچتے رہو تم
ہم نے تو عشق اپنا اعلان کر دیا ہے
ہم نے تو زخم اپنے لکھ لکھ کے رکھ لیے تھے
یاروں نے جمع کر کے دیوان کر دیا ہے
ہم چاہتے تھے اپنا کرنا اسے تو اس نے
ہم کو ہی اپنے گھر کا دربان کر دیا ہے
دنیا نے کچھ نہ چھوڑا جز ایک فرحتؔ احساس
ہر ایک فرحت اللہ کو خان کر دیا ہے
غزل
ہم کو برائے دنیا بے جان کر دیا ہے
فرحت احساس

