ہم کہ سرمایۂ ایقان لئے بیٹھے ہیں
عظمت خاک تری شان لئے بیٹھے ہیں
کتنے بے رنگ فصیلوں کو قبائیں دیں گے
سب کے سب تنگئ دامان لئے بیٹھے ہیں
میری شہ رگ کا لہو لاکھ مشاہد ٹھہرے
صاحب شہر تو فرمان لئے بیٹھے ہیں
شوق میں صورت تکمیل ہنر کی خاطر
ہم بھی آئینۂ امکان لئے بیٹھے ہیں
پھر در و بام پہ قندیل سجے بھی تو کیا
ضو شکن رات کا سامان لئے بیٹھے ہیں
اب بھی امید کف پائے طلب روشن ہے
زندگی ہم ترا احسان لئے بیٹھے ہیں
تیرا چہرہ کبھی اترا نہیں دیکھا عامرؔ
آئنے آج بھی ارمان لئے بیٹھے ہیں
غزل
ہم کہ سرمایۂ ایقان لئے بیٹھے ہیں
عامر نظر

