ہم اپنے آپ کو اپنے سے کم بھی کرتے رہتے ہیں
اور اس نقصان پر بیکار غم بھی کرتے رہتے ہیں
اٹھاتے رہتے ہیں دن رات دیوار وجود اپنی
مگر دیوار کو تھوڑا سا خم بھی کرتے رہتے ہیں
ہم اس کے حسن کا جادو بھی چڑھنے دیتے ہیں خود پر
اور اپنے آپ پر کچھ پڑھ کے دم بھی کرتے رہتے ہیں
ہمیں بھی شہر کی رونق بلا لے جاتی ہے اکثر
مگر ہم شہر کی رونق سے رم بھی کرتے رہتے ہیں
ہمیں جب خوب چڑھ جاتا ہے نشہ اپنی ہستی کا
تو اس نشے میں ہم رقص عدم بھی کرتے رہتے ہیں
یہ آئینہ ہمارے رو بہ رو جو کچھ بھی کرتا ہے
وہی سب آئنے کے ساتھ ہم بھی کرتے رہتے ہیں
کبھی جب فرحتؔ احساس اپنا افسانہ سناتے ہیں
اسے اپنی حقیقت کا علم بھی کرتے رہتے ہیں
غزل
ہم اپنے آپ کو اپنے سے کم بھی کرتے رہتے ہیں
فرحت احساس

