ہم اپنا اسم لے کر شہر صفت سے نکلے
پھر معرفہ و نکرہ سارے لغت سے نکلے
لفظوں میں اس نے اپنے آئینے رکھ دیے تھے
پردہ نشیں کے سارے عکس اس کے خط سے نکلے
کیا راستی ہماری اپنی کجی سے نکلی
ہم کیا درست ہو کر اپنے غلط سے نکلے
کج فہمیوں نے جتنی ہجویں لکھیں ہماری
ہم اتنے ہی زیادہ اپنی لکھت سے نکلے
باہر گلی میں بھاری فوج خدا پڑی تھی
ہم کافر محبت ناچار چھت سے نکلے
ہم جو بچا بچا کے رکھتے رہے تھے خود کو
کنگال ہو کے آخر اپنی بچت سے نکلے
کاٹا گیا تھا ہم کو اک خاص زاویے سے
یہ شعر سب قلم کے اس خاص قط سے نکلے
بیچا ہے کوڑیوں کے مول اپنا مال سارا
اور اس طرح خود اپنی بڑھتی کھپت سے نکلے
صوفی تھے ہم مگر تھے روحانیت کے قیدی
آخر کو اپنی مٹی کی معرفت سے نکلے
جغرافیہ تھیں یا پھر تاریخ ساری جہتیں
ہم ہو کے فرحتؔ احساس اپنی جہت سے نکلے
غزل
ہم اپنا اسم لے کر شہر صفت سے نکلے
فرحت احساس

