ہم آدم زاد جو ہیں روز اول سے کمی ہے یہ
کہ جو ہے موت اس کو جانتے ہیں زندگی ہے یہ
جو منظر ہے سو آ کر مختلف ہے سب کی آنکھوں میں
پھر آنکھیں دیکھتی ہیں کیا تماشا دیدنی ہے یہ
یہاں دشت طلب میں ایک میں ہوں اور سوا میرے
سرابوں کو نچوڑے جا رہی اک تشنگی ہے یہ
اندھیرے دل نے کی تھی آرزو اس کے اجالوں کی
مری آنکھیں ہی چھینے لے رہا ہے روشنی ہے یہ
اس اک بے مہر سے ترک تعلق پر ندامت کیا
گوارا کر لئے کیسے ستم شرمندگی ہے یہ
بہت دیکھا ہے تم نے حسن صناعی مگر اس کو
جو دیکھو تو کہو گے واہ وا برجستگی ہے یہ
کشش مردم کی یہ ہے یا نمود نجم اسود ہے
وفور نور ہے یا انتہائے تیرگی ہے یہ
مسافر دائرے کے ہم گمان استقامت میں
بہت آگے نکل آئے ہیں یعنی واپسی ہے یہ
غزل
ہم آدم زاد جو ہیں روز اول سے کمی ہے یہ
محمد اعظم

