EN हिंदी
ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی | شیح شیری
hain ek saf mein qalandar bhi main bhi duniya bhi

غزل

ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی

منصور عثمانی

;

ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی
ستم زدہ بھی ستم گر بھی میں بھی دنیا بھی

خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں
زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی

وہ ایک لمحہ کہ ہم سب لپٹ کے روئے تھے
اداس رات کا منظر بھی میں بھی دنیا بھی

دعائیں مانگتے رہتے ہیں تجھ سے ملنے کی
اداس اداس مرا گھر بھی میں بھی دنیا بھی

سفر پہ نکلے تو اکثر بھٹک گئے جاناں
تمہاری یاد کے لشکر بھی میں بھی دنیا بھی

غزل کے سانچے میں ڈھلتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں
وفا کی راہ کے پتھر بھی میں بھی دنیا بھی

جدا جدا ہیں مگر پھر بھی ساتھ ہیں منصورؔ
محبتوں کے سمندر بھی میں بھی دنیا بھی