حاصل زیست عشق ہی تو نہیں
چشم و ابرو ہی زندگی تو نہیں
زلف شب رنگ و چشم سحر انداز
یہ بہت کچھ ہیں پر یہی تو نہیں
میرے لب تک ترے تغافل کی
بات آئی مگر کہی تو نہیں
آپ ناراض ہو گئے اتنا
یہ کوئی ایسی بات بھی تو نہیں
کٹ ہی جائے گی یہ بھی اے باقرؔ
ہجر کی رات دائمی تو نہیں

غزل
حاصل زیست عشق ہی تو نہیں
سجاد باقر رضوی