حالات کی اجڑی محفل میں اب کوئی سلگتا ساز نہیں
نغمے تو لپکتے ہیں لیکن شعلوں سا کہیں انداز نہیں
ہر برگ حسیں کو دیتے ہیں زخموں کے مہکتے نذرانے
کانٹوں سے بڑا اس گلشن میں پھولوں کا کوئی دم ساز نہیں
یا سایۂ گل کا ہے یہ کرم یا فرق ہے دانے پانی کا
پنچھی تو وہی ہیں گلشن میں پہلی سی مگر پرواز نہیں
مرقد سا بنا ہے خوشبو کا منہ بند کلی کے سینے میں
اے شام گلستاں تو ہی بتا یہ بھی تو کسی کا راز نہیں
چھلکے نہ سبو اور جھوم اٹھیں قطرہ نہ ملے اور پیاس بجھے
یہ ظرف ہے پینے والوں کا ساقی کا کوئی اعجاز نہیں
اے صحن چمن کے زندانی کر جشن طرب کی تیاری
بجتے ہیں بہاروں کے کنگن زنجیر کی یہ آواز نہیں
غزل
حالات کی اجڑی محفل میں اب کوئی سلگتا ساز نہیں
قتیل شفائی

