ہائے اس مجبورئ ذوق نظر کو کیا کروں
وہ مجھے دیکھیں نہ دیکھیں میں انہیں دیکھا کروں
حسن کے حسن ندامت کا تقاضا ہے کہ آج
صدق دل سے پھر یقین وعدۂ فردا کروں
میں نے مانا ضامن تسکین دل ہے ترک شوق
لیکن اپنے واقعات زندگی کو کیا کروں
زندگی شاید عزائم پروری کا نام ہے
سوچتا ہوں ہر نفس اب کیا کروں اب کیا کروں
غزل
ہائے اس مجبورئ ذوق نظر کو کیا کروں
شکیل بدایونی

