EN हिंदी
ہائے اس مجبورئ ذوق نظر کو کیا کروں | شیح شیری
hae is majburi-e-zauq-e-nazar ko kya karun

غزل

ہائے اس مجبورئ ذوق نظر کو کیا کروں

شکیل بدایونی

;

ہائے اس مجبورئ ذوق نظر کو کیا کروں
وہ مجھے دیکھیں نہ دیکھیں میں انہیں دیکھا کروں

حسن کے حسن ندامت کا تقاضا ہے کہ آج
صدق دل سے پھر یقین وعدۂ فردا کروں

میں نے مانا ضامن تسکین دل ہے ترک شوق
لیکن اپنے واقعات زندگی کو کیا کروں

زندگی شاید عزائم پروری کا نام ہے
سوچتا ہوں ہر نفس اب کیا کروں اب کیا کروں