حادثے پھیل گئے سایۂ مژگاں کی طرح
غم دوراں بھی ملا ہے غم جاناں کی طرح
لاکھ پیوند امیدوں نے لگا رکھے ہیں
دل کی صورت نظر آتی ہے گریباں کی طرح
کوئی افلاک نشیں ہے تو پکارے مجھ کو
حسرتیں خاک بسر ہیں مری طوفاں کی طرح
اور ہوں گے وہ میسر ہے جنہیں لطف بہار
ہم تو گلشن میں بھی رہتے ہیں بیاباں کی طرح
جو بھی گل ہے یہاں فردوس بنا بیٹھا ہے
کون کھلتا ہے یہاں غنچۂ عصیاں کی طرح
یہ بھی اعجاز کہیں باد مخالف کا نہ ہو
دل اڑا جاتا ہے اورنگ سلیماں کی طرح
خوف محشر سے نہ گھبراؤ تم اے بادہ کشو
در توبہ بھی کھلا ہے در زنداں کی طرح
ہم کیا کرتے ہیں اشکوں سے تواضع کیا کیا
جب خیالوں میں وہ آ جاتے ہیں مہماں کی طرح
نہ کوئی ساز نہ سنگیت نہ پازیب نہ گیت
اف یہ ماحول کہ ہے شہر خموشاں کی طرح
ہم ترے مصر میں آئے ہیں زلیخائے شکم
بک نہ جائیں کہیں ہم یوسف کنعاں کی طرح
غزل
حادثے پھیل گئے سایۂ مژگاں کی طرح
قتیل شفائی

