EN हिंदी
گزر اوقات نہیں ہو پاتی | شیح شیری
guzar auqat nahin ho pati

غزل

گزر اوقات نہیں ہو پاتی

ایوب خاور

;

گزر اوقات نہیں ہو پاتی
دن سے اب رات نہیں ہو پاتی

ساری دنیا میں بس اک تم سے ہی
اب ملاقات نہیں ہو پاتی

جو دھڑکتی ہے مرے دل میں کہیں
اب وہی بات نہیں ہو پاتی

جمع کرتا ہوں سر چشم بہت
پھر بھی برسات نہیں ہو پاتی

لاکھ مضموں لب اظہار پہ ہیں
اور مناجات نہیں ہو پاتی

ہاتھ میں ہاتھ لیے پھرتی ہے
ختم یہ رات نہیں ہو پاتی