EN हिंदी
گنگناتی سی کوئی رات بھی آ جاتی ہے | شیح شیری
gungunati si koi raat bhi aa jati hai

غزل

گنگناتی سی کوئی رات بھی آ جاتی ہے

قتیل شفائی

;

گنگناتی سی کوئی رات بھی آ جاتی ہے
آپ آتے ہیں تو برسات بھی آ جاتی ہے

ہم کو ہر چند گوارا نہیں آنسو لیکن
اپنی جھولی میں یہ خیرات بھی آ جاتی ہے

آرزوؤں کے جنازے ہی نہیں پلکوں پر
بجلیوں کی کبھی بارات بھی آ جاتی ہے

گردش جام سے ہٹ کر بھی تری آنکھوں سے
وجد میں گردش حالات بھی آ جاتی ہے

وہ فسانے جو مرے نام سے منسوب ہوئے
ان فسانوں میں تری بات بھی آ جاتی ہے