EN हिंदी
گلشن کو تری صحبت ازبسکہ خوش آئی ہے | شیح شیری
gulshan ko teri sohbat az-bas-ki KHush aai hai

غزل

گلشن کو تری صحبت ازبسکہ خوش آئی ہے

مرزا غالب

;

گلشن کو تری صحبت ازبسکہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
یاں نالے کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے

ازبسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے