EN हिंदी
گلشن ہو نگاہوں میں تو جنت نہ سمجھنا | شیح شیری
gulshan ho nigahon mein to jannat na samajhna

غزل

گلشن ہو نگاہوں میں تو جنت نہ سمجھنا

شکیل بدایونی

;

گلشن ہو نگاہوں میں تو جنت نہ سمجھنا
دم بھر کی عنایت کو محبت نہ سمجھنا

کیا شے ہے متاع غم و راحت نہ سمجھنا
جینا ہے تو جینے کی حقیقت نہ سمجھنا

ہو خیر ترے غم کی کہ ہم نے ترے غم سے
سیکھا ہے مسرت کو مسرت نہ سمجھنا

نسبت ہی نہیں کوئی محبت کو خرد سے
اے دل کبھی مفہوم محبت نہ سمجھنا

یہ کس نے کہا تم سے کہ روداد وفا کو
سن کر بھی سمجھنے کی ضرورت نہ سمجھنا

ویرانیٔ ماحول کو بربادئ دل کو
ہر دور میں آثار محبت نہ سمجھنا

سر خم ہو اگر مصلحت وقت کے آگے
اس جبر مسلسل کو عبادت نہ سمجھنا

دیکھے جو تمہیں کوئی محبت کی نظر سے
للہ شکیلؔ اس کو محبت نہ سمجھنا