گلشن ہو نگاہوں میں تو جنت نہ سمجھنا
دم بھر کی عنایت کو محبت نہ سمجھنا
کیا شے ہے متاع غم و راحت نہ سمجھنا
جینا ہے تو جینے کی حقیقت نہ سمجھنا
ہو خیر ترے غم کی کہ ہم نے ترے غم سے
سیکھا ہے مسرت کو مسرت نہ سمجھنا
نسبت ہی نہیں کوئی محبت کو خرد سے
اے دل کبھی مفہوم محبت نہ سمجھنا
یہ کس نے کہا تم سے کہ روداد وفا کو
سن کر بھی سمجھنے کی ضرورت نہ سمجھنا
ویرانیٔ ماحول کو بربادئ دل کو
ہر دور میں آثار محبت نہ سمجھنا
سر خم ہو اگر مصلحت وقت کے آگے
اس جبر مسلسل کو عبادت نہ سمجھنا
دیکھے جو تمہیں کوئی محبت کی نظر سے
للہ شکیلؔ اس کو محبت نہ سمجھنا
غزل
گلشن ہو نگاہوں میں تو جنت نہ سمجھنا
شکیل بدایونی

