EN हिंदी
گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں | شیح شیری
ghar ki jab yaad sada de to palaT kar aa jaen

غزل

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں

پیرزادہ قاسم

;

گھر کی جب یاد صدا دے تو پلٹ کر آ جائیں
کاش ہم اپنی ہی خواہش کو میسر آ جائیں

ہے کرامت مرے دل کی ترے ناوک میں نہیں
وار ہو ایک مگر زخم بہتر آ جائیں

گفتگو آج تو دو ٹوک کرے گا سورج
ظل سبحانی شبستان سے باہر آ جائیں

شب کو یلغار تفکر سے جو بچ نکلوں میں
صبح دم تازہ خیالات کے لشکر آ جائیں

اتنی سفاک سماعت بھی غضب ہے کہ جہاں
بات پوری بھی نہ ہو ہاتھوں میں پتھر آ جائیں