گھنگھور گھٹا کے آنچل کو جب کالی رات نچوڑ گئی
اک تنہائی کو چین ملا اک تنہائی دم توڑ گئی
اے وقت کے اندھے رکھوالو یہ راز تو ہم بھی جانتے ہیں
بے وجہ تمہاری آنکھوں سے کیوں بینائی منہ موڑ گئی
اک وہ بھی سفینہ تھا اپنا جو ساحل ساحل گھوم گیا
اک یہ بھی ہماری کشتی ہے جو لہروں میں سر پھوڑ گئی
ہر چند نظر نے تاروں پر شبخون تو مارا ہے لیکن
یہ رات سحر کے دامن پر کچھ داغ لہو کے چھوڑ گئی
انسان کا روشن مستقبل جس وقت چراغ راہ بنا
ہر منزل اپنے قدموں سے تاریخ کا ناطہ جوڑ گئی
غزل
گھنگھور گھٹا کے آنچل کو جب کالی رات نچوڑ گئی
قتیل شفائی

