EN हिंदी
گرچہ مرے خلوص سے وہ بے خبر نہ تھا | شیح شیری
garche mere KHulus se wo be-KHabar na tha

غزل

گرچہ مرے خلوص سے وہ بے خبر نہ تھا

روہت سونی تابشؔ

;

گرچہ مرے خلوص سے وہ بے خبر نہ تھا
پھر بھی مری وفاؤں کا اس پر اثر نہ تھا

میں اس فریب حسن سے خود با خبر نہ تھا
وہ تھا تو میرے ساتھ بظاہر مگر نہ تھا

اپنا اسے بنا نہ سکا میں تمام عمر
مجھ میں بہت ہنر تھے مگر یہ ہنر نہ تھا

لب تھے خموش خوف سے اظہار عشق کے
پر آنسوؤں کو میرے کسی کا بھی ڈر نہ تھا

سارے جہاں کی خاک کو ہم چھاننے کے بعد
لوٹے تو دیکھا اپنا گھر اب اپنا گھر نہ تھا

بیمار غم کے واسطے کیا موت کے سوا
کوئی علاج دہر میں اے چارہ گر نہ تھا

کیا میکدے کا نظم بھی تبدیل ہو گیا
ساقی جو دور جام ادھر تھا ادھر نہ تھا

ہوتی بھی فتح کیسے مری جب تھے ساتھ ساتھ
وہ لوگ جن کے شانے پہ خود اپنا سر نہ تھا

کیوں اس نے کی نہ زحمت چارہ گری قبول
کیا اس کے پاس چارۂ زخم جگر نہ تھا

کافی تھا مجھ کو راہ وفا میں خیال یار
تابشؔ بلا سے کوئی مرا ہم سفر نہ تھا