گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا
چڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا
دو اور دو کا جوڑ ہمیشہ چار کہاں ہوتا ہے
سوچ سمجھ والوں کو تھوڑی نادانی دے مولا
پھر روشن کر زہر کا پیالہ چمکا نئی صلیبیں
جھوٹوں کی دنیا میں سچ کو تابانی دے مولا
پھر مورت سے باہر آ کر چاروں اور بکھر جا
پھر مندر کو کوئی میراؔ دیوانی دے مولا
تیرے ہوتے کوئی کس کی جان کا دشمن کیوں ہو
جینے والوں کو مرنے کی آسانی دے مولا
غزل
گرج برس پیاسی دھرتی پھر پانی دے مولا
ندا فاضلی